اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف جنگ کے اثرات خام تیل کی عالمی منڈی سے کہیں آگے تک پہنچ گئے ہیں، روس اور مشرق وسطیٰ سے برآمدات میں کمی اور اہم ایندھن مراکز میں ذخائر گھٹنے کے باعث عالمی سطح پر فرنس آئل (Fuel Oil) کی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہوگئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں عالمی فرنس آئل مارکیٹ کو نمایاں قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سپلائی میں خلل پیدا ہوا ہے، جبکہ ریفائنریاں گیسولین، ڈیزل اور جیٹ فیول جیسی مصنوعات کی پیداوار بڑھانے پر توجہ دے رہی ہیں، جس کے نتیجے میں فرنس آئل کی دستیابی مزید متاثر ہوئی ہے۔
توانائی سے متعلق مشاورتی ادارے انرجی اسپیکٹس نے اندازہ لگایا ہے کہ رواں سہ ماہی میں عالمی سطح پر فرنس آئل کی سپلائی میں یومیہ تقریباً 2 لاکھ 18 ہزار بیرل کی کمی ہوسکتی ہے۔ یہ جولائی تا ستمبر 2025ء کے بعد پہلی مرتبہ ہوگا کہ ادارے نے فرنس آئل کی عالمی مارکیٹ میں اس نوعیت کے خسارے کی پیش گوئی کی ہے۔
فرنس آئل خام تیل کی ریفائننگ سے حاصل ہونے والی بھاری پیٹرولیم مصنوعات میں شامل ہے، جسے بڑے بحری جہازوں، بعض بجلی گھروں اور صنعتی یونٹس میں بطور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایشیا اس قلت سے دیگر خطوں کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوسکتا ہے، کیونکہ خطہ خلیجی ممالک سے درآمد ہونے والے فرنس آئل پر خاصا انحصار کرتا ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے بحری ایندھن فراہم کرنے والے مرکز سنگاپور کو اپنی ضرورت کا نصف سے زیادہ ایندھن بیرون ملک سے درآمد کرنا پڑتا ہے، جبکہ وہاں فرنس آئل کی مجموعی کھپت تقریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچتی ہے۔
دوسری جانب سنگاپور، ایمسٹرڈیم-روٹرڈیم-اینٹورپ اور فجیرہ جیسے اہم مراکز میں فرنس آئل کے ذخائر گزشتہ تین سال کی موسمی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد کم ہوگئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال جنگ اور علاقائی بحران کے نتیجے میں سپلائی چین میں پیدا ہونے والے خلل کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔
سپلائی پر دباؤ کے باعث بحری جہازوں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
سنگاپور میں کم سلفر والے فرنس آئل، جو عالمی بحری نقل و حمل میں استعمال ہونے والے اہم ایندھن میں شامل ہے، ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے 76 فیصد مہنگا ہوچکا ہے اور یکم ستمبر کو اس کی قیمت تقریباً 825 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی۔
یہ اضافہ اسی عرصے میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں ہونے والے تقریباً 40 فیصد اضافے سے تقریباً دوگنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگست میں یوکرین کے روسی ریفائنریوں پر حملوں کے بعد روس کی فرنس آئل برآمدات بھی ریکارڈ کم سطح پر پہنچ گئیں۔ روس کی برآمدات کم ہو کر تقریباً 5 لاکھ 91 ہزار بیرل یومیہ رہ گئیں، جبکہ 2025ء میں روس کی اوسط فرنس آئل برآمدات 8 لاکھ 60 ہزار بیرل یومیہ سے زیادہ تھیں۔
سپلائی کا بحران مشرق وسطیٰ تک بھی پھیل گیا ہے، جہاں کویت کی الزور ریفائنری فرنس آئل کے بڑے سپلائرز میں شمار ہوتی ہے۔
کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ سے اگست کے دوران مشرق وسطیٰ سے فرنس آئل کی برآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 45 فیصد کم ہوکر اوسطاً 4 لاکھ 47 ہزار بیرل یومیہ رہ گئیں۔
الزور ریفائنری نے بھی مارچ سے اب تک صرف ایک کھیپ برآمد کی ہے، جو تقریباً 26 ہزار بیرل یومیہ کے برابر بنتی ہے، جبکہ جنوری اور فروری میں یہ مقدار تقریباً 1 لاکھ 91 ہزار بیرل یومیہ تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان تمام عوامل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے اثرات صرف خام تیل کی عالمی منڈی تک محدود نہیں رہے بلکہ سپلائی کے راستوں میں خلل اور ریفائنریوں کے پیداواری رجحانات میں تبدیلی کے باعث بحری جہازوں کے ایندھن اور بجلی گھروں کی توانائی کی فراہمی بھی شدید دباؤ کا شکار ہوگئی ہے۔
آپ کا تبصرہ